سلیم بن قیس ہلالی روایت کرتے ہیں کہ میں نے سلمان فارسی سے سنا کہ جب رسول اللہ کا انتقال ہوا تو لوگوں نے جو طے کرنا تھا کر لیا۔ ابو بکر بن قحافہ، عمر بن خطاب اور ابو عبیدہ بن جراح آئے اور انصار سے جھگڑا شروع کر دیا۔ انصار حضرت علی کے حق میں جھگڑ رہے تھے۔ ان تینوں حضرات نے کہا، اے گروہ انصار ہم تم سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں۔ رسول اللہ قریش میں سے تھے۔ مہاجر تم سے بہتر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اپنی کتاب میں کیا ہے اور ان کی فضیلت بیان کی ہے۔ اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ امام قریش میں سے ہوں گے۔
سلمان فارسی نے کہا، میں حضرت علی علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا آپ رسول اللہ کو غسل دے رہے تھے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وصیت کی تھی کہ میرے غسل کو علی کے سوا کوئی سرانجام نہ دے۔ اور اس کام میں ملائکہ ان کی مدد کریں گے۔ جب حضرت علیؓ جس عضو کے غسل کا ارادہ کرتے تھے وہ خود بخود تبدیل ہو جاتا تھا۔ جب حضرت علی نے رسول اللہ کو غسل و کفن دے دیا تو مجھے اور ابوذر اور مقداد اور جناب سیدہ فاطمہ اور حسن و حسین کو اندر داخل کر لیا۔ آپ اگ کھڑے ہو گئے۔ ہم نے آپ کے پیچھے نماز ادا کی۔
Sulaim bin Qais Al-Hilali narrates that I heard from Salman Al-Farsi that when the Messenger of Allah (PBUH) passed away, the people proceeded with what they had decided. Abu Bakr bin Qahafa, Umar bin Khattab, and Abu Ubaidah bin Jarrah came and started disputing with the Ansar. The Ansar were arguing in favor of Ali (AS). These three said, “O group of Ansar! We are more deserving of the caliphate than you. The Messenger of Allah (PBUH) was from the Quraysh, and the Muhajirun are superior to you. Allah Almighty has mentioned them in His Book and has highlighted their virtues. The Holy Prophet (PBUH) has also said that the Imam will be from the Quraysh.”
Salman Al-Farsi said: I went to the service of Ali (AS), who was performing the ritual washing (Ghusl) of the Messenger of Allah (PBUH), because the Prophet (PBUH) had willed that no one except Ali should undertake his Ghusl, and that the angels would assist him in this task. Whenever Ali (AS) intended to wash a part of the body, it would turn by itself. After Ali (AS) had completed the Ghusl and Kafan, he allowed me, Abu Dharr, Miqdad, Lady Fatima (SA), Hasan (AS), and Husain (AS) to enter. He then stood forward…
سُلَيْمُ بْنُ قَيْسٍ الْهِلَالِيُّ يَرْوِي أَنِّي سَمِعْتُ مِنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ أَنَّهُ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَعَلَ النَّاسُ مَا كَانُوا قَدْ عَزَمُوا عَلَيْهِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرِ بْنُ قُحَافَةَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَبَدَأُوا بِمُنَازَعَةِ الْأَنْصَارِ. وَكَانَ الْأَنْصَارُ يُدَافِعُونَ عَنْ حَقِّ عَلِيٍّ (عَلَيْهِ السَّلَامُ). فَقَالَ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ: “يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، نَحْنُ أَحَقُّ بِالْخِلَافَةِ مِنْكُمْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْمُهَاجِرُونَ أَفْضَلُ مِنْكُمْ، وَقَدْ ذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَبَيَّنَ فَضْلَهُمْ، وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: الْإِمَامُ مِنْ قُرَيْشٍ”.
فَقَالَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ: فَأَتَيْتُ إِلَى خِدْمَةِ عَلِيٍّ (عَلَيْهِ السَّلَامُ)، وَهُوَ يَقُومُ بِغُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَوْصَى أَنْ لَا يَتَوَلَّى غُسْلَهُ إِلَّا عَلِيٌّ، وَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ سَتُعِينُهُ فِي ذَلِكَ. وَكُلَّمَا أَرَادَ عَلِيٌّ (عَلَيْهِ السَّلَامُ) أَنْ يَغْسِلَ جُزْءًا مِنَ الْجَسَدِ، كَانَ يَنْقَلِبُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهِ. فَلَمَّا أَكْمَلَ عَلِيٌّ (عَلَيْهِ السَّلَامُ) غُسْلَ النَّبِيِّ وَكَفَنَهُ، أَذِنَ لِي وَلِأَبِي ذَرٍّ وَالْمِقْدَادِ وَلِلسَّيِّدَةِ فَاطِمَةَ (عَلَيْهَا السَّلَامُ) وَالْحَسَنِ (عَلَيْهِ السَّلَامُ) وَالْحُسَيْنِ (عَلَيْهِ السَّلَامُ) بِالدُّخُولِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ لِلصَّلَاةِ…